بائیس کروڑ پاکستانیو! اب پتہ چلا؟ یہ ملک سات دہائیوں سے ترقی کیوں نہیں کر سکا؟

تحریر عمار مسعود.

بائیس کروڑ پاکستانیو! اب پتہ چلا؟ یہ ملک سات دہائیوں سے ترقی کیوں نہیں کر سکا؟ ہم خط ناداری سے اوپر کیوں نہیں نکل سکے؟ ہم قرضے کیوں مانگتے رہے ہیں؟ ہم آئی ایم ایف کے رحم و کرم پر کیوں رہتے ہیں؟ ہم فنڈ، گرانٹ اور امداد کے منتظر کیوں رہتے ہیں؟ ہم ہر سانحے پر دنیا کی طرف ترسی نگاہوں سے کیوں دیکھتے ہیں؟ ہم کسی بھی شعبے میں ترقی کیوں نہیں کر پاتے؟ ہم صنعت میں آگے کیوں نہیں جاسکے؟ ہم زراعت میں ترقی کیوں نہیں کر سکے؟ ہمارا شمار دنیا کے غریب ممالک میں کیوں ہوتا ہے؟ ہماری ناداری کے قصے کیوں معروف ہیں؟ ہمارے ہاں بھوک کیوں اتنی زیادہ ہے؟ ہمارے ہاں سے غربت ختم کیوں نہیں ہوتی؟ ہمارا ہاں لوگوں کو روزگار کیوں میسر نہیں ہوتا؟ 

بائیس کروڑ پاکستانیو! اب پتہ چلا۔ ہمارے ہاں بچے کیوں بھوک سے مر جاتے ہیں؟ مائیں دوائی نہ ملنے کی وجہ سے کیوں جاں بلب رہتی ہیں؟ ہسپتال کیوں نہیں بنتے؟ غریب کا مفت علاج کیوں نہیں ہوتا؟ ہسپتالوں کے برآمدوں میں مٹی میں لتھڑے مریض کیوں مر جاتے ہیں؟ ہمارے ہاں ڈسپنسریاں کیوں نہیں کھلتیں؟ ڈاکٹر کیوں نہیں بنتے؟ میڈیکل سٹاف کیوں نہیں ہوتا؟ انجکشن کیوں نہیں ملتے؟ پانی ملی ادویات کیوں بکتی ہیں؟ اس ملک کے لوگوں کو علاج کی سہولیات کیوں نہیں ملتیں؟ 
بائیس کروڑ پاکستانیو! اب پتہ چلا۔ ہمارے ہاں سکول کیوں نہیں بنتے؟ ڈھائی کروڑ بچے کیوں سکول نہیں جا پاتے؟ سکولوں کی حالت کیوں خستہ رہتی ہے؟ مویشیوں کے باڑوں میں بچوں کی تعلیم کا انتظام کیوں ہوتا؟ ہمارے ہاں جہالت کیوں ہے؟ استاد کی تنخواہ کیوں نہیں بڑھتی؟ استاد کو عزت کیوں نہیں ملتی؟ نسل در نسل جہالت کیوں قائم رہتی ہے؟ تعلیم سا بنیادی حق اس قوم کو کیوں نہیں ملتا؟ تعلیم کا بجٹ کیوں کم ہوتا ہے؟ یونیورسٹیاں کیوں نہیں بنتیں؟ پی ایچ ڈی ڈاکٹرز کیوں نہیں بنتے؟ ہم تعلیم کے میدان میں کوئی کارنامے سرانجام کیوں نہیں دیتے؟ 
‘یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے سرکاری عہدے بھی کاروبار ہیں۔’ فائل فوٹو: روئٹرز
بائیس کروڑ پاکستانیو! اب پتہ چلا۔ ہمارے ہاں سڑکیں کیوں نہیں بنتیں؟ ہمارے ہاں انفراسٹرکچر کیوں نہیں بنتا؟ گاوں کی پگڈنڈی ستر سالوں کے بعد بھی سڑک کیوں نہیں بنتی؟ پٹرول کیوں مہنگا ہوتا ہے؟ گیس کیوں دستیاب نہیں ہوتی؟ لوڈ شیڈنگ کیوں ہوتی ہے؟ کارخانے کیوں نہیں لگتے؟ ہنر مند مزدور کیوں پیدا نہیں ہوتے؟ کیمونکیشن میں ہم آگے کیوں نہیں بڑھتے ؟ ذاریع آمد رفت ترقی کیوں نہیں کرتے؟ ڈیم کیوں نہیں تعمیر ہوتے؟ بجلی کے کارخانے کیوں نہیں لگتے؟ ہم اتنی دہائیوں کے بعد بھی بنیادی ضروریات عوام کو کیوں نہیں فراہم کر سکے؟ 
 بائیس کروڑ پاکستانیو! اب پتہ چلا۔ کرپشن اس ملک کا کتنا بڑا المیہ بن چکا ہے۔ کس طرح کرپٹ لوگ اس ملک کی جڑوں کو کاٹ رہے ہیں؟ کس طرح ذاتی مفاد کے لیے ملک کو بیچ رہے ہیں؟ کس طرح لوگوں کے کاروبار ملک اور بیرون ملک پھل پھول رہے ہیں۔ کس طرح محدود آمدن میں انکے بچے بیرون ملک مہنگے اداروں میں پڑھ رہے ہیں۔ کس طرح لوگ اپنے عہدوں کا استعمال کر کے اس ملک کو لوٹ رہے ہیں؟ کس طرح لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم کیا جاتا رہا ہے؟ 
‘کس طرح محدود آمدن میں انکے بچے بیرون ملک مہنگے اداروں میں پڑھ رہے ہیں؟’ فائل فوٹو: روئٹرز
جن لوگوں کا سرمایہ اس ملک میں نہیں ہوتا انہیں اس ملک سے دلچسپی بھی نہیں ہوتی۔ وہ اس ملک میں بس کرپشن کے لیے سرکاری عہدوں پر رہتے ہیں۔ اس ملک کو ایک سیڑھی کی طرح استعمال کرتے ہیں۔ ذاتی مفاد میں گھرے رہتے ہیں ۔ اپنے محل بناتے ہیں اور ان کی حفاظت کے لیے غریب کی جھگی تک کو آگ لگا دیتے ہیں۔
بائیس کروڑ پاکستانیو! اب پتہ چلا۔ کس طرح کچھ لوگوں نے چہروں پر ماسک چڑھائے ہوئے ہیں۔ کس طرح وہ اس ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کر رہے ہیں کس طرح کرپشن سے ذاتی کاروبار بڑھا رہے ہیں۔ کس طرح اس ملک کو نوچ رہے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے سرکاری عہدے بھی کاروبار ہیں۔ جاہ و حشم  بھی کاروبار ہے۔ حب الوطنی بھی کاروبار ہے۔ یہ مفاد پرست لوگ اس ملک کے وفادار نہیں۔ اس ملک کی مٹی سے وفادار نہیں۔ انہیں بس ذاتی مفاد عزیز ہے۔ انہیں بس اپنے کاروبار سے محبت ہے۔ انکی اولادیں پڑھ لکھ کر اس ملک پر راج کرتی ہیں۔ یہ خود غرض لوگ اس ملک کے عوام کوکمتر درجے کے انسان سمجھتے ہیں۔ یہ خود کو کوئی اعلی و ارفع مخلوق سمجھتے ہیں۔ انکے لئے غریب کی مفلسی بھی کاروبار ہے۔ انکے لئے دم توڑتے مریضوں کی دوائی بھی کاروبار ہے ۔ انکے لئے جہالت بھی کاروبار ہے۔ ان کے لئے ٹوٹی سڑک بھی کاروبار ہے۔ ان کے لئے ترقی کے منبصوبے بھی کاروبار ہیں۔ انکے لئے وطن دستی بھی کاروبار ہے۔ یقین مانیئے یہ ایسے لوگ ہیں کہ ان کے لئے یہ ملک اور اسکی مٹی بھی ایک منافع بخش کاروبار ہے۔  
‘غریب کا مفت علاج کیوں نہیں ہوتا؟’ فائل فوٹو: اے ایف پی
بائیس کروڑ پاکستانیو! اب پتہ چلا۔ سات دہائیوں سے ہمیں جس معاشی، سماجی، اخلاقی اور معاشرتی ابتری کا سامنا ہےاس کے ذمہ دار یہ لوگ ہیں۔ اس بدحالی نے اس قوم میں تین طرح کے لوگوں کو جنم دیا ہے۔ ایک وہ ہیں جو ذاتی مفاد کی خاطر اس ملک کی جڑوں میں زہر کے بیج بوتے رہے۔ دوسرے وہ ہیں جو اس ظلم پر روتے رہے اور تیسری قسم ایسے لوگوں کی ہے کو جو یہ سب کچھ دیکھ کر بھی سوتے رہے۔ اب آپ فیصلہ کیجیے آپ کا شمار کس قطار میں ہوتا ہے۔ آپ کس قسم کے پاکستانی ہیں۔ 
نوٹ۔ پیشہ ورانہ دیانت کا تقاضہ ہے کہ اس کالم کے اختتام پر میں یہ اعتراف کروں کہ اس کالم میں کرپشن سے متعلق گفتگو کا بیش تر حصہ اس ملک کے ایسے تجزیہ کاروں کی اس بصیرت افروز گفتگو سے مستعار لیا گیا ہے جو انہوں نے گذشہ پانچ برسوں میں مختلف چینلز کے پروگراموں میں  ببانگ دہل کی ہے۔ 

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s