—ویل ڈن صحافیان جہانیاں—-

تحریر : رانا خالد انجم

قرآن کریم اللّٰہ تعالیٰ کی مقدس کتاب ھے جسے کلام اللّٰہ ھونے کا اعزاز حاصل ھے ۔ کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر اللّٰہ رب العزت کا پیغام لے کر اس دنیا میں آئے ۔ ان پر اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے مختلف صورتوں میں احکامات نازل ھوتے رھے کچھ انبیاء پر صحیفے اتارے گئے اور چند ایک پر کتب نازل ھوئیں۔ انجیل ، زبور ، تورات اور دیگر کتب کا ذکر قرآن و حدیث سے ہمیں ملتا ہے ۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس دور کے مذہبی پیشواؤں نے ان کتب میں اپنی مرضی سے تبدیلیاں کرکے ان کے اصل مفہوم کو بدل کر رکھ دیا لیکن قرآن کریم اللّٰہ تعالیٰ کی وہ مقدس کتاب ھے جس کی حفاظت کی ذمہ داری خود اللہ رب العزت نے اپنے ذمہ لے لی اور قیامت تک اس کتاب میں تبدیلی تو بہت دور کی بات ہے اس کے مفہوم کو بدلنے کی کوشش کرنے والے نشان عبرت بنا دیئے گئے اور جائیں گے ۔ یہ مقدس کتاب کاغذ کے صفحات پر مشتمل ھے تو وقت کے ساتھ ساتھ اور موسم میں نمی کے باعث یہ اوراق بوسیدہ ھو کر شہید ھو جاتے ھیں ۔ مسلمان اپنے ان مقدس اوراق کو محفوظ جگہ پر منتقل کرنے کے لیے اپنے قریبی مساجد میں جمع کروا دیتے ہیں ۔ اسی ضمن گزشتہ چند سالوں سے جہانیاں کے مقامی قبرستان میں ایک متروک کنوئیں میں رکھ دئیے جانے لگے لیکن اس کنویں کے بھر جانے پر ھوا سے مقدس اوراق اڑ کر قبرستان میں پھیلنے لگے ۔جس سے ان کی بے حرمتی ھونے کا خدشہ لاحق ھوا۔

سینئر صحافی شیخ ارشد چاند، تیمور انجم، زین یوسف

جب اس بات کا علم جہانیاں کے نوجوان صحافیوں زین یوسف نمائندہ روہی نیوزچینل تیمور انجم نمائندہ روزنامہ قوم کو ھوا تو انہوں نے اپنے میڈیا چینل کے ذریعے سے اس مسلہ کو اٹھایا جس پر بعد ازاں سینئر صحافی شیخ محمد ارشد المعروف شیخ چاند نے جہانیاں شہر سے مشرق میں واقع “شہر خموشاں”میں مقدس اوراق کی بے حرمتی اسکے مناسب تدارک کیلئے نہ صرف توجہ مبذول کروائی بلکہ عملا قدم بھی اٹھایا- جس پر آج جہانیاں کے باسی افراد پر مشتمل ایک ٹیم نے قبرستان میں ایک مناسب جگہ پر گڑھا کھود کر ان مقدس اوراق کو احسن طریقے سے دفن کر دیا ۔ اس پرآشوب دور میں جبکہ ہر لحظہ مادیت پرستی کا دور دورہ ھے بلا شبہ یہ ایک نیک کام جس کو اس کے انجام تک پہنچانے میں زین یوسف ، تیمور انجم اور سنیر صحافی شیخ ارشد چاند داد کے مستحق ھیں اللّٰہ تعالیٰ اس عظیم کام سر انجام دینے پر ان کی یہ کاوش قبول فرمائے اور دنیا و آخرت میں ان کے تمام معاملات کی اصلاح فرمائیں آمین ۔یہ ایک ایسا شاندار اقدام ھے کہ دیگر علاقہ جات بشمول شہر ودیہہ کے لوگوں کو ایسے اقدامات کی پیروی کرنا چاہئیے۔ ھاں ایک بات یاد دھانی کے طور پر ھمارے بچپن میں ایک بزرگ عبد العزیز عرف جیجو مرحوم ھوتے تھے ۔ خدمت خلق ان کا پیشہ تھا لوھے کی چادر کو گول کرکے منادی کیا کرتے تھے۔ جب تک زندہ تھے قبرستان کی دیکھ بھال اور قرآن کریم کے شہید اوراق اور نسخوں کو محفوظ کرنے کا کام فی سبیل اللّٰہ کرتے تھے۔ بارشوں کے بعد قبریں بیٹھ جاتی یا قبرستان میں کچی اینٹوں کی ضرورت ھو تو بابا عبد العزیز ھر معاملے میں پورے اترتے تھے ۔ ان کی وفات کے بعد قبرستان کے معاملات پس پشت چلے گئے ۔ برادرم زین یوسف ، تیمور انجم اور محترم شیخ محمد ارشد چاند نے اس معاملے کو اجاگر کرکے آج بابا عبدالعزیز کی یاد تازہ کروا دی ۔ اللّٰہ رب العزت بابا عبدالعزیز کی مغفرت فرمائے اور اس کام کو ان کے لئے صدقہ جاریہ بنائے آمین