
جاپان میں قتل کے جرم میں 40 سال سے قید شخص کو عدالت نے بے گناہ قرار دے دیا۔ عدالت نے 1.4 ملین ڈالرز ہرجانہ دینے کا حکم بھی دیا۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق جاپان میں تقریباََ 4 دہائیوں سے قتل کے جرم میں قید ایواؤ ہاکاماتا نامی ایک شخص بے گناہ نکلا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایواؤ ہاکاماتا کو 1966ء میں 4 لوگوں کا قتل کرنے کے جرم میں سزا سنائی گئی تھی۔ ایواؤ ہاکاماتا کے وکلاء نے بتایا کہ پولیس نے ملزم کو اعترافِ جرم کرنے پر مجبور کیا تھا اور جعلی شواہد پیش کیے اور اس کیس کی سماعت دوبارہ کرنے کی درخواست کی۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ جب عدالت میں اس کیس کی دوبارہ سماعت ہوئی تو تمام شواہد اور دلائل کو مدِنظر رکھتے ہوئے ایواؤ ہاکاماتا کو بے گناہ قرار دے دیا گیا۔
عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ایک غلط فیصلے کی وجہ سے ایواؤ ہاکاماتا کو بے گناہ ہونے کے باوجود بھی اتنے طویل عرصے جیل کاٹنی پڑی اس لیے 1.4 ملین ڈالرز ہرجانے کے طور پر ادا کیے جائیں گے۔
