asifسابق پاکستانی سفیر نے مختلف انکشافات کیے ہیں، جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ پی پی پی حکومت کی مرضی سے سی آئی اے کے اہلکار پاکستان میں اسامہ کی کھوج کے لیے آئے تھے۔hussain
تجزیہ نگاروں کے خیال میں ان انکشافات نے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو چراغ پا کر دیا ہے، جس کو یہ پہلے ہی شک تھا کہ حسین حقان ریاستی مفادات کے خلاف کام کر رہا ہے۔ ان انکشافات پر اپنا ردِ عمل دیتے ہوئے معروف دفاعی تجزیہ نگار ریٹائرڈ جنرل امجد شعیب نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’فوج کے علم میں پہلے ہی سے کئی باتیں تھیں۔ میمو گیٹ اسکینڈل سے سب واقف ہیں۔ ان انکشافات کے بعد فوج کے ان دعووں کو مذید تقویت ملی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ حسین حقانی ملکی مفاد کے خلاف کام کر رہا ہے۔ اس سے حسین حقانی کا جھوٹ بھی پکڑا گیا۔ او بی ایل کمیشن کے سامنے اس نے حلف اٹھا کر کہا کہ حکومت نے اس کو کبھی نہیں کہا کہ وہ لوگوں کو ویزے جاری کرے اور اب وہ انکشافات کو افشاء کرنے کی دھمکیاں دے رہا ہے۔ وہ پاکستان کے مفادات کے خلاف کام کر رہا ہے اور امریکا میں یہ پروپیگنڈا کرتا ہے کہ وہ ایک مختلف نقطہء نظر رکھتا ہے۔ اسی لیے اسے پاکستان میں ناپسند کیا جاتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ سابق سفیر وہی زبان استعمال کرتا ہے جو کچھ امریکی ارکان کانگریس کرتے ہیں۔ اس کا مطلب صاف ہے کہ یہ ان کی زبان بولتا ہے اور انہیں خوش کرنے کے لیے ملکی مفادات کو نقصان پہنچا رہا ہے۔‘